مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ دشمن نے حالیہ جنگوں میں جدید ٹیکنالوجی اور ہائبرڈ جنگ کے طریقوں کے ساتھ میدان میں قدم رکھا، تاہم وہ اپنے کسی بھی اہم تزویراتی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان جنرل طلائی نیک نے صوبہ البرز کے علما اور سیاسی رہنماؤں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آٹھ سالہ جنگ اور حالیہ مسلط کردہ جنگوں کے درمیان نمایاں فرق کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں جنگوں میں دشمن کے مشترکہ اہداف میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا خاتمہ، ایران کی تقسیم اور اسلامی انقلاب کو محدود کرنا شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگوں میں دشمن نے سابقہ اہداف کے علاوہ ایران کی پرامن جوہری صلاحیت، میزائل طاقت، علاقائی طاقت اور بحری صلاحیت کو کمزور کرنے کی بھی کوشش کی، لیکن وہ اپنے کسی بھی تزویراتی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
طلائی نیک نے کہا کہ آٹھ سالہ جنگ کے آغاز میں دشمن نے اسلامی جمہوریہ کے نوخیز سیاسی نظام، داخلی اختلافات، مسلح افواج کی صورتحال اور فوجی انحصار کو اپنی کامیابی کی بنیاد سمجھا تھا، جبکہ حالیہ جنگوں میں اس نے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے، معاشی و سماجی ناراضی، داخلی کمزوریوں اور شناختی جنگ پر انحصار کیا، لیکن ایمان، قیادت، مسلح افواج کے جہادی جذبے اور عوامی مزاحمت کے کردار کو درست طور پر مدنظر نہیں رکھا۔
وزارت دفاع کے ترجمان نے آٹھ سالہ جنگ کو بنیادی طور پر زمینی اور روایتی جنگ قرار دیا جس میں انسانی قوت میدان کا مرکزی عنصر تھی، جبکہ حالیہ جنگوں کو ٹیکنالوجی، ماہرین اور ہائبرڈ جنگ قرار دیا۔ ان کے مطابق حالیہ جنگوں میں فوجی میدان کے علاوہ سماجی، اقتصادی، میڈیا اور شناختی شعبے بھی محاذ تقابل بن گئے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگوں میں حملوں کی شدت، کارروائیوں کی رفتار، جغرافیائی دائرہ کار، ہتھیاروں کی نوعیت اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لحاظ سے صورتحال آٹھ سالہ جنگ سے مختلف تھی۔
طلائی نیک نے بتایا کہ مسلح افواج کی بعض تزویراتی صلاحیتیں گزشتہ برسوں کے دوران محفوظ مقامات اور زیر زمین تنصیبات میں منتقل کی گئی تھیں، جس کے باعث ایران کی دفاعی صلاحیت اور ہتھیاروں کی پیداوار سے متعلق دشمن کے بعض اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔
انہوں نے دفاعی طاقت کے ساتھ اقتصادی، بنیادی ڈھانچے، توانائی، ثقافتی، میڈیا اور سماجی شعبوں میں بھی ترقی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسلط کردہ جنگوں کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کے اندازے اس وقت غلط ثابت ہوتے ہیں جب وہ ایمان، قیادت، قومی یکجہتی، سائنسی صلاحیت اور عوامی مزاحمت کی طاقت کو نظر انداز کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ